مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
٣٩٣٢٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو (عن) (١) أبي سلمة عن عمرو ابن (العاص) (٢) قال: ما رأيت قريشا أرادوا قتل النبي ﷺ إلا يوما ائتمروا به وهم جلوس في ظل الكعبة ورسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٣) وسلم يصلي عند المقام، فقام إليه عقبة بن أبي معيط فجعل رداءه في عنقه ثم جذبه حتى وجب (لركبتيه) (٤) ساقطا، وتصايح الناس، فظنوا أنه مقتول، (فأقبل) (٥) أبو بكر يشتد حتى أخذ بضبعي رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٦) وسلم من ورائه وهو يقول: أتقتلون رجلا أن يقول ربي اللَّه، ثم انصرفوا عن النبي صلى اللَّه عليه (٧) وسلم، فقام رسول اللَّه ﷺ فصلى فلما قضى صلاته مر بهم وهم جلوس في ظل الكعبة، فقال: "يا معشر قريش، أما والذي نفس ⦗٣٦٤⦘ محمد بيده ما أرسلت إليكم إلا بالذبح"، وأشار بيده إلى حلقه، قال: فقال له أبو جهل: يا محمد ما كنت جهولا، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "أنت منهم" (٨).حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے قریش کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ کرتے (کبھی) نہیں دیکھا تھا۔ مگر ایک دن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سازش کر رہے تھے اور وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا فرما رہے تھے۔ پس عقبہ بن ابی معیط کھڑا ہوا اور اپنی چادر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن میں ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھینچا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل گرنے لگے۔ لوگوں نے شورو غل کیا تو لوگوں نے یہ گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقتول ہوگئے ہیں۔ حضرت ابوبکر سختی کے ساتھ آگے بڑھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بغلوں کے پیچھے سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے۔ { أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّی اللَّہُ } پھر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے گروہ قریش ! خبردار ! قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ مجھے تمہاری طرف نہیں بھیجا گیا مگر ذبح کے ساتھ ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا : راوی کہتے ہیں : ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : اے محمد ! تم تو جاہل نہیں تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو بھی ان میں سے ہے۔