مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في مبعث النبي ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
٣٩٣١٧ - حدثنا (أبو أسامة عن) (١) محمد بن أبي حفصة عن الزهري عن أبي سلمة عن جابر (قال) (٢): احتبس الوحي عن النبي ﷺ (٣) في أول أمره، وحبب إليه الخلاء، (فجعل) (٤) يخلو في حراء، فبينما هو مقبل من حراء قال: "إذا أنا (بحس) (٥) فوقي فرفعت رأسي، فإذا أنا بشيء على كرسي، فلما رأيته (جئثت) (٦) إلى الأرض وأتيت (أهلي) (٧) بسرعة فقلت: (دثروني) (٨) (دثروني) (٩) فأتاني جبريل (١٠) فجعل يقول: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (١) قُمْ فَأَنْذِرْ (٢) وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (٣) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (٤) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ " (١١).حضرت جابر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شروع شروع میں وحی بند ہوگئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلوت محبوب ہوگئی پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِرا میں خلوت گزین ہوجاتے۔ پس اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرا کے سامنے تھے ، فرمایا : جب میں نے اپنے اوپر سے ہلکی آواز سُنی تو میں نے اپنا سر اٹھایا ۔ تو مجھے اچانک کرسی پر کوئی چیز دکھائی دی پس جب میں نے اسے دیکھا تو گھبرا کر زمین کی طرف دیکھا اور میں اپنے گھر والوں کے پاس جلدی جلدی آیا اور میں نے کہا۔ مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ۔ پھر میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے کہنا شروع کیا : { یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ، قُمْ فَأَنْذِرْ ، وَرَبَّک فَکَبِّرْ ، وَثِیَابَک فَطَہِّرْ ، وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ }۔