حدیث نمبر: 39316
٣٩٣١٦ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ أتاه (جبريل) (١) وهو يلعب مع الغلمان، فأخذه فصرعه فشق عن قلبه، فاستخرج القلب ثم استخرج علقة منه فقال: هذا حظ الشيطان منك، ثم غسله في (طست) (٢) من ذهب بماء زمزم، ثم لأمه ثم أعاده في مكانه، قال: وجاء الغلمان يسعون إلى أمه -يعني: (ظئره) (٣)، (فقالوا) (٤): إن محمدا (٥) - قد قتل، (قال) (٦): ⦗٣٦٠⦘ فاستقبلوه وهو منتقع اللون، قال أنس: لقد كنت أرى أثر (المخيط) (٧) في صدره (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا اور زمین پر لٹا دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ مبارک شق کیا اور قلب مبارک کو باہر نکالا پھر قلب مبارک سے ایک لوتھڑا نکالا اور فرمایا۔ یہ آپ کے (دل میں) سے شیطان کا حصہ ہے۔ پھر جبرائیل نے دل کو ایک سونے کے طشت میں ماء زمزم سے دھویا پھر جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کو سیا پھر اس کو اس کی جگہ میں واپس رکھ دیا۔ راوی کہتے ہیں : بچے دوڑتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امی، دائی، کے پاس آئے اور کہا : محمد قتل کردیئے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا ۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ میں سُوئی کے اثرات دیکھے۔

حواشی
(١) في [ق، هـ]: (جبرئيل).
(٢) في [أ، ب، س]: (طشت).
(٣) في [س]: (ظئبرة).
(٤) في [جـ]: (قال).
(٥) في [أ، جـ]: زيادة ﷺ
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [ق]: (الخيط).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39316
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٢)، وأحمد ٣/ ١٤٩ (١٢٥٢٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39316، ترقيم محمد عوامة 37712)