مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في مبعث النبي ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
٣٩٣١٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن الحسن قال: (ابتعث) (١) اللَّه النبي ﷺ (٢) مرة لإدخال رجل الجنة، قال: فمر على (كنيسة) (٣) ⦗٣٥٩⦘ من كنائس اليهود فدخل إليهم وهم يقرؤون سِفْرَهُمْ، فلما رأوه أطبقوا السفر وخرجوا، (و) (٤) في ناحية من الكنيسة رجل يموت قال: فجاء إليه فقال: إنما منعهم أن (يقرؤا) (٥) أنك أتيتهم وهم يقرؤن (نعت) (٦) نبي هو نعتك، ثم جاء إلى السفر ففتحه ثم قرأ فقال: أشهد أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه ﷺ، (ثم قبض فقال رسول اللَّه ﷺ) (٧): "دونكم أخاكم"، (قال) (٨): فغسلوه وكفنوه وحنطوه ثم صلى عليه (٩).حسن فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک آدمی کو جنت میں داخل کرنے کے لئے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہود کی عبادت گاہوں میں سے ایک عبادت گاہ کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اس وقت وہ لوگ اپنی کتاب پڑھ رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو کتاب کو بند کردیا اور باہر نکل گئے۔ عبادت گاہ کے ایک کونہ میں ایک آدمی مر نے کے قریب پڑا ہوا تھا ۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے پاس تشریف لائے تو اس آدمی نے عرض کیا۔ ان لوگوں (یہود) کو پڑھنے سے اس بات نے منع کیا ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں اور یہ لوگ (اس وقت) ایک نبی کی صفات پڑھ رہے تھے۔ جو کہ آپ ہی ہیں۔ پھر وہ آدمی کتاب کے پاس آیا ۔ اس کو کھولا اور پڑھا تو کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس آدمی کی روح قبض ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’؛ اپنے بھائی کو سنبھالو۔ راوی کہتے ہیں : پھر صحابہ نے اس کو غسل دیا اور کفن دیا اور حنوط لگایا پھر اس پر جنازہ پڑھا گیا۔