مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في مبعث النبي ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
٣٩٣١٣ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي إسحاق الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد ابن الهاد قال: نزل (جبريل) (١) على رسول اللَّه ﷺ (فغمه) (٢) ثم قال (٣): اقرأ، قال: "وما اقرأ؟ "، قال: (فغمه) (٤)، ثم قال (له) (٥): اقرأ، قال: "وما اقرأ؟ "، قال: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾، فأتى خديجة فأخبرها بالذي رأى، فأتت ورقة بن نوفل ⦗٣٥٧⦘ فذكرت ذلك له، فقال لها: هل رأى زوجك صاحبه في حضر؟ قالت: نعم، قال: فإن زوجك نبي (و) (٦) سيصيبه من أمته بلاء (٧).حضرت عبد اللہ بن شداد بن الہاد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : پڑھو ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں کیا پڑھوں ؟ راوی کہتے ہیں ۔ جبرائیل نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا اور کہا : پڑھو ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں کیا پڑھوں ؟ جبرائیل نے کہا : { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ } آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور جو کچھ دیکھا تھا۔ اس کی حضرت خدیجہ کو خبر دی۔ وہ ورقہ بن نوفل کے پاس حاضر ہوئیں اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ ورقہ نے خدیجہ سے کہا : کیا تمہارے شوہر نے اپنے اس ساتھی کو حضر میں دیکھا ہے ؟ خدیجہ نے کہا : ہاں ! ورقہ نے کہا : پھر (تو) تیرا شوہر نبی ہے اور ان کو عنقریب اپنی امت کی طرف سے آزمائش آئے گی۔