حدیث نمبر: 39313
٣٩٣١٣ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي إسحاق الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد ابن الهاد قال: نزل (جبريل) (١) على رسول اللَّه ﷺ (فغمه) (٢) ثم قال (٣): اقرأ، قال: "وما اقرأ؟ "، قال: (فغمه) (٤)، ثم قال (له) (٥): اقرأ، قال: "وما اقرأ؟ "، قال: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾، فأتى خديجة فأخبرها بالذي رأى، فأتت ورقة بن نوفل ⦗٣٥٧⦘ فذكرت ذلك له، فقال لها: هل رأى زوجك صاحبه في حضر؟ قالت: نعم، قال: فإن زوجك نبي (و) (٦) سيصيبه من أمته بلاء (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن شداد بن الہاد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : پڑھو ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں کیا پڑھوں ؟ راوی کہتے ہیں ۔ جبرائیل نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا اور کہا : پڑھو ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں کیا پڑھوں ؟ جبرائیل نے کہا : { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ } آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور جو کچھ دیکھا تھا۔ اس کی حضرت خدیجہ کو خبر دی۔ وہ ورقہ بن نوفل کے پاس حاضر ہوئیں اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ ورقہ نے خدیجہ سے کہا : کیا تمہارے شوہر نے اپنے اس ساتھی کو حضر میں دیکھا ہے ؟ خدیجہ نے کہا : ہاں ! ورقہ نے کہا : پھر (تو) تیرا شوہر نبی ہے اور ان کو عنقریب اپنی امت کی طرف سے آزمائش آئے گی۔

حواشی
(١) في [هـ]: (جبرئيل).
(٢) سقط من: [هـ]: وفي [ق]: (فجمه).
(٣) في [ي]: زيادة (له).
(٤) في [هـ]: (فضمه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39313
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه بن شداد لم تثبت له رواية عن النبي ﷺ، أخرجه ابن بشكوال ١/ ٣٢٠، وابن جرير ٣٠/ ٢٥٢، وفي التاريخ ١/ ٥٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39313، ترقيم محمد عوامة 37709)