حدیث نمبر: 39302
٣٩٣٠٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس وأبو أسامة وغندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن صفوان بن عسال قال: قال يهودي لصاحبه: اذهب بنا إلى (هذا) (١) النبي، (قال) (٢): فقال (صاحبه) (٣): لا (تقل) (٤) نبي، فإنه لو سمعك كان له أربع (أعين) (٥)، قال: فأتيا رسول اللَّه ﷺ فسألاه عن تسع آيات بينات فقال: "لا تشركوا باللَّه شيئا، ولا تزنوا ولا تسرقوا، ولا تقتلوا النفس التي حرم اللَّه إلا بالحق، ولا تمشوا ببريء إلى (ذي) (٦) سلطان فيقتله، ولا تسحروا، ولا تأكلوا الربا، ولا تقذفوا المحصنة، ولا تولوا للفرار يوم الزحف، وعليكم خاصة يهود: (لا) (٧) تعدوا في السبت"، قال: فقبلوا يديه ورجليه وقالوا: نشهد أنك نبي (٨) (حق) (٩)، قال: "فما يمنعكم أن تتبعوني؟ " قالوا: إن داود دعا: لا يزال في ذربته نبي، وإنا نخاف أن تقتلنا يهود (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صفوان بن عسال روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو ! اس کے ساتھی نے کہا : نہیں ! نبی مت کہو کیونکہ اگر انہوں نے تجھے سُن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ راوی کہتے ہیں : وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نو کھلی نشانیوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو اور اس جان کو قتل نہ کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کی وجہ سے ۔ اور کسی قوت والے کے پاس بےگناہ کی چغلی نہ کرو کہ وہ اس بےگناہ کو قتل کر دے اور جادو نہ کرو۔ اور سود نہ کھاؤ۔ اور پاکدامن عورت پر تہمت زنی مت کرو اور جنگ کے دن بھاگنے کے لئے پیٹھ مت پھیرو۔ اور اے خواص یہود تم پر یہ بھی لازم ہے کہ ہفتہ کے دن میں تعدی نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں : یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ، پاؤں چومے اور عرض کرنے لگے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی برحق ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو میری اتباع سے کیا چیز مانع ہے ؟ کہنے لگے : داؤد نے دعا مانگی تھی کہ ان کی ذریت میں مسلسل نبوت رہے ۔ اور ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ ہمیں یہودی قتل کردیں گے۔

حواشی
(١) سقط من: [ق].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ب]: (لصاحبه).
(٤) في [ب]: (ميل).
(٥) في [س]: (أعيي).
(٦) سقط من: [ق].
(٧) في [أ، ب]: (ولا).
(٨) في [ت]: زيادة ﷺ.
(٩) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39302
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق، أخرجه أحمد (١٨٠٩٢)، وابن ماجه (٣٧٠٥)، والترمذي (٣١٤٤)، والنسائي ٧/ ١١١، والحاكم ١/ ٩، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٤٦٦)، وابن جرير في التفسير ١٥/ ١٧٢، والطيالسي (١١٦٤)، والطحاوي ٣/ ٢١٥، والطبرني (٧٣٩٦)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٩٧، والبيهقي ١٤/ ١٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39302، ترقيم محمد عوامة 37698)