مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما رأي النبي ﷺ قبل النبوة باب: ان باتوں کا بیان جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے قبل دیکھا
٣٩٣٠١ - حدثنا ابن (فضيل) (١) عن عطاء عن سعيد عن ابن عباس أنه لم (تكن) (٢) قبيلة من الجن إلا ولهم مقاعد للسمع، قال: فكان إذا نزل الوحي ⦗٣٥١⦘ سمعت الملائكة صوتا كصوت الحديدة ألقيتها على الصفا، قال: فإذا سمعته الملائكة خروا سجدا فلم يرفعوا رؤوسهم حتى ينزل، فإذا نزل قال بعضهم لبعض: ماذا قال ربكم؟ فإن كان مما يكون في السماء قالوا: الحق وهو العلي الكبير، فإن كان مما يكون في الأرض [من أمر (الغيب) (٣) أو موت أو شيء مما يكون في الأرض] (٤) تكلموا به (فقالوا) (٥): يكون كذا كذا، فتسمعه الشياطين فينزلونه على أوليائهم، فلما بعث اللَّه محمدا ﷺ (٦) دحروا بالنجوم، فكان أول من علم بها ثقيف، فكان ذو الغنم منهم ينطلق إلى غنمه فيذبح كل يوم شاة، وذو الإبل ينحر كل يوم بعيرا، فأسرع الناس في أموالهم، فقال بعضهم لبعض: لا تفعلوا، فإن كانت النجوم التي يهتدى بها وإلا فإنه أمر حدث، (فنظروا) (٧) فإذا النجوم التي يهتدى بها كما هي، لم يرم منها بشيء فكفوا، وصرف اللَّه الجن فسمعوا القرآن، فلما حضروه قالوا: أنصتوا، قال: وانطلقت الشياطين إلى إبليس (فأخبروه) (٨) فقال: هذا (حدث) (٩) حدث في الأرض، فأتوني من كل أرض بتربة، فلما أتوه بتربة تهامة قال: هاهنا الحدث (١٠).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جنات کا کوئی قبیلہ نہیں تھا مگر یہ کہ ان کے لئے (آسمانی باتیں) سُننے کے لئے نشستیں تھیں۔ فرماتے ہیں : پس جب وحی نازل ہوتی تو فرشتے ایسی آواز سنتے جیسے اس لوہے کی آواز ہوتی ہے جس کو آپ صاف پتھر پر پھینکیں۔ فرماتے ہیں : پس جب فرشتے یہ آواز سنتے تو سجدہ میں گرپڑتے۔ وحی کے نازل ہونے تک وہ اپنے سر نہ اٹھاتے۔ پھر جب وحی نازل ہو چکتی تو بعض فرشتے ، بعض فرشتوں سے کہتے۔ تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ پس اگر وحی کسی آسمانی معاملہ میں ہوتی تو فرشتے کہتے۔ حق کہا ہے اور وہ ذات بلند اور بڑی ہے اور اگر وحی کسی زمینی معاملہ میں۔ غیبی امر یا موت یا کوئی بھی زمینی معاملہ، ہوتی تو فرشتے باہم گفتگو کرتے اور کہتے کہ یوں یُوں ہوگا۔ ان باتوں کو شیاطین سُن لیتے اور پھر یہ باتیں اپنے اولیاء (دوستوں) کو آ کر کہتے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا تو شیاطین کو ستاروں کے ذریعہ ہلاک کیا گیا۔ سب سے پہلے جس کو اس بات کا (ستارے گرنے کا) علم ہوا وہ (قبیلہ) ثقیف تھا۔ پس ان میں سے بکریوں والا اپنی بکریوں کے پاس جاتا اور ہر روز ایک بکری ذبح کردیتا۔ اور اونٹوں والا ہر روز ایک اونٹ ذبح کردیتا۔ پس لوگوں نے اپنے میں جلدی کرنا شروع کی ۔ تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ (ایسا) نہ کرو۔ اگر تو یہ راہنمائی والے ستارے ہیں (تو پھر ٹھیک) وگرنہ یہ کوئی نئے حادثہ کی وجہ سے ہے۔ پس لوگوں نے دیکھا تو راہنمائی والے ستارے تو ویسے ہی تھے۔ ان میں سے کچھ بھی نہیں پھنکاک گیا تھا۔ لوگ رُک گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جنات کو پھیرا اور انہوں نے قرآن کو سُنا۔ پس جب جنات (تلاوت) قرآن پر حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا۔ خاموش ہو جاؤ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ شیاطین ، ابلیس کے پاس گئے اور جا کر اس کو خبر دی اس نے کہا : زمین میں یہی واقعہ رونما ہوا ہے۔ پس تم میرے پاس ہر زمین کی مٹی لاؤ۔ شیاطین جب ابلیس کے پاس تہامہ کی مٹی لائے تو اس نے کہا ۔ یہیں پر یہ نیا واقعہ رونما ہوا ہے۔