مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما رأي النبي ﷺ قبل النبوة باب: ان باتوں کا بیان جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے قبل دیکھا
٣٩٣٠٠ - حدثنا (قُراد) (١) أبو نوح قال: (أخبرنا) (٢) يونس (بن) (٣) أبي إسحاق عن أبي بكر بن أبي موسى (عن أبيه) (٤) قال: خرج أبو طالب إلى الشام وخرج معه رسول اللَّه صلى اللَّه وعليه (وسلم) (٥) وأشياخ من قريش، فلما أشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم، (فخرج) (٦) إليهم الراهب، وكانوا قبل ذلك يمرون به فلا يخرج إليهم ولا يلتفت، قال: فهم يحلون رحالهم فجعل يتخللهم حتى جاء فأخذ بيد رسول اللَّه ﷺ فقال: هذا سيد العالين، هذا رسول رب العالمين، هذا (يبعثه) (٧) ⦗٣٤٩⦘ اللَّه رحمة للعالمين، فقال له أشياخ من قريش: ما (علمك؟) (٨) قال: إنكم (٩) حين أشرفتم من العقبة لم (تبق شجرة) (١٠) ولا (حجر) (١١) إلا خر ساجدا، ولا (يسجدون) (١٢) إلا لنبي، وإني لأعرفه بخاتم النبوة أسفل من غضروف كتفه مثل التفاحة، ثم رجع (ووضع) (١٣) لهم طعاما، فلما أتاهم به وكان هو في (رعية) (١٤) (الإبل) (١٥) قال: أرسلوا إليه، فأقبل وعليه غمامة تظله، قال: انظروا إليه عليه غمامة تظله، فلما دنا (من) (١٦) القوم وجدهم قد سبقوا إلى فيء الشجرة (١٧)، (فلما جلس مال فيء الشجرة عليه، فقال: انظروا إلى فيء الشجرة) (١٨) (مال) (١٩) عليه، قال: فبينما هو قائم عليهم وهو يناشدهم أن لا (يذهبوا) (٢٠) به إلى الروم، (فإن الروم) (٢١) لو رأوه عرفوه بالصفة فقتلوه، فالتفت فإذا هو بتسعة نفر قد أقبلوا من الروم فاستقبلهم، فقال (٢٢): ما جاء ⦗٣٥٠⦘ بكم؟ (قالوا) (٢٣): جئنا أن هذا النبي خارج في هذا الشهر، فلم يبق في طريق إلا قد بعث إليه ناس، وإنا أخبرنا خبره فبعثنا إلى طريقك هذا، فقال (لهم) (٢٤): ما خلفتم خلفكم أحدا هو خير منكم؟ قالوا: (لا) (٢٥)، إنما (أخبرنا) (٢٦) خبره (٢٧) لطريقك هذا، قال: أفرأيتم أمرا أراد اللَّه أن يقضيه (٢٨) (هل) (٢٩) يستطيع أحد من الناس رده؟ قالوا: لا، قال (٣٠): (فبايعوه) (٣١) وأقاموا معه، فأتاهم فقال: أنشدكم باللَّه أيكم وليه؟ قال أبو طالب: أنا، فلم يزل يناشده حتى رده أبو طالب وبعث معه أبو بكر (بلالا) (٣٢) وزوده الراهب من الكعك والزيت (٣٣).حضرت ابوبکر بن ابو موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابو طالب شام کی طرف نکلے۔ اور ان کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قریش کے چند بڑی عمر کے لوگ تھے۔ پس جب یہ لوگ راہب کے پاس پہنچے۔ انہوں نے پڑاؤ ڈالا اور یہ اپنی سواری سے اترے۔ تو راہب ان کی طرف آیا۔ اور اس سے پہلے یہ لوگ راہب کے پاس سے گزرتے تھے لیکن وہ ان کی طرف نہیں آتا تھا اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کرتا تھا۔ راوی کہتے ہیں : یہ لوگ اپنی سواریوں سے اتر رہے تھے تو راہب نے ان کے درمیان پھرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ راہب نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا۔ یہ جہانوں کے سردار ہیں اور یہ جہانوں کے پروردگار کے رسول ہیں۔ اور ان کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ قریش کے لوگوں نے راہب سے کہا۔ تمہیں کیا علم ہے ؟ اس نے کہا ۔ جب تم لوگ گھاٹی سے بلند ہوئے تو کوئی درخت اور پتھر باقی نہیں رہا مگر یہ کہ اس نے جھک کر سجدہ کیا۔ اور یہ چیزیں انبیاء ہی کو سجدہ کرتی ہیں اور میں ان کو مہر نبوت کی وجہ سے پہچانتا ہوں جو مہر ان کے کندھے کی نرم ہڈی کے نیچے مثل سیب کے ہے۔ ٢۔ پھر راہب لوٹا اور اس نے ان (قافلہ والوں) کے لئے کھانا تیار کیا ۔ پس جب وہ قافلہ والوں کے پاس کھانا لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹوں کی حفاظت پر (مامور) تھے۔ راہب نے کہا۔ ان کی طرف (کوئی آدمی) بھیجو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بادل سایہ کیے ہوئے تھا۔ راہب نے کہا۔ تم انہیں دیکھو ! ان پر ایک بادل ہے جس نے ان پر سایہ کیا ہوا ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے قریب پہنچے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہی درخت کے سایہ میں تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مائل ہوگیا۔ راہب نے کہا۔ تم درخت کے سایہ کی طرف دیکھو وہ (بھی) ان کی طرف جھک گیا ہے۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں : جب راہب قافلہ والوں کے پاس کھڑا تھا اور ان سے مطالبہ کر رہا تھا کہ قافلے والے ان کو روم لے کر نہ جائیں۔ کیونکہ رومی لوگ انہیں دیکھ لیں گے تو انہیں (ان کی) صفات کی وجہ سے پہچان جائیں گے اور انہیں قتل کردیں گے۔ اس دوران اس نے مڑ کر دیکھا تو نو (٩) افراد کا گروہ جو کہ روم سے آیا تھا ، موجود تھا۔ راہب نے ان کی طرف رُخ پھیرا اور پوچھا۔ تمہیں کیا چیز یہاں لائی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ نبی اسی شہر سے نکلے گا۔ پس کوئی راستہ باقی نہیں رہا مگر یہ کہ اس کی طرف لوگوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ اور ہمیں اس کے متعلق خبر دی گئی ہے اور ہمیں تمہارے اس راستہ کی طرف بھیجا گیا ہے۔ راہب نے ان افراد سے کہا۔ تم لوگوں نے اپنے پیچھے کسی کو خود سے بہتر چھوڑا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! ہمیں تو ان کی خبر کے بارے میں آپ کے راستہ کی طرف ہی مطلع کیا گیا ہے۔ راہب نے کہا : تم مجھے اس معاملہ کے بارے میں خبر دو جس کو اللہ تعالیٰ نے پورا کرنے کا ارادہ کرلیا ہے تو کیا لوگوں میں سے کوئی اس کو رد کرنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! راوی کہتے ہیں : پس ان لوگوں نے راہب کی بات مان لی اور اسی کے پاس ٹھہر گئے۔ ٤۔ پھر راہب قافلہ والوں کے پاس آیا اور کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! اس (بچہ) کا ولی کون ہے ؟ ابو طالب نے کہا : میں ان کا ولی ہوں۔ پس راہب مسلسل ابو طالب سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس کردیا اور حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال کو بھیجا۔ راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زاد راہ کے لئے کیک اور زیتون پیش کیے۔