حدیث نمبر: 39299
٣٩٢٩٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (مجالد) (٢) قال: حدثنا عامر قال: انطلق عمر إلى يهود فقال: أنشدكم (اللَّه) (٣) الذي أنزل التوراة على موسى هل تجدون محمدا (٤) في كتبكم؟ قالوا: نعم، قال: فما يمنعكم أن تتبعوه؟ (فقالوا) (٥): إن اللَّه لم يبعث رسولا إلا كان له من الملائكة (كفل) (٦)، (وإن) (٧) جبرائيل (كفل) (٨) محمد (٩)، وهو الذي يأتيه، وهو عدونا من بين الملائكة، وميكائيل سلمنا، فلو كان ميكائيل هو الذي (يأتيه) (١٠) أسلمنا، قال: (فإني) (١١) أنشدكم باللَّه الذي أنزل التوراة على موسى ما منزلتهما من رب العالمين؟ قالوا: جبرائيل عن يمينه وميكائيل عن يساره، قال عمر: فإني (أشهد) (١٢) ما (يتنزلان) (١٣) إلا بإذن اللَّه، وما كان ميكائيل ⦗٣٤٨⦘ (ليسالم) (١٤) عدو جبرئيل، وما كان جبرئيل (ليسالم) (١٥) عدو ميكائيل فبينما هو عندهم إذ جاء النبي ﷺ فقالوا: هذا (صاحبك) (١٦) يا ابن الخطاب؟ فقام إليه فأتاه وقد أُنزل عليه: ﴿قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّه﴾ إلى قوله: ﴿فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ﴾ [البقرة: ٩٧، ٩٨] (١٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر یہود کے پاس گئے اور کہا میں تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات اتاری۔ کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی صفات) کو اپنی کتابوں میں پاتے ہو ؟ یہود نے کہا ۔ ہاں ۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ پھر تمہیں ان کی اتباع کرنے سے کیا شئی روکتی ہے ؟ یہود نے کہا : اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ فرشتوں میں سے اس کا کوئی ساتھی ہوتا ہے۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھی جبرائیل ہے اور وہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا ہے۔ اور فرشتوں میں سے یہ ہمارے دشمن ہیں۔ اور میکائیل سے ہماری مصالحت ہے ۔ پس اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس میکائیل آیا کرتے تو ہم اسلام لے آتے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ میں تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی ہے۔ ان دونوں فرشتوں کی رب العالمین کے ہاں کیا قدر ومنزلت ہے ؟ یہود نے کہا۔ جبرائیل اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف ہے اور میکائیل اللہ تعالیٰ کے بائیں طرف ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ پس بیشک میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ دونوں فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے نازل ہوتے ہیں ۔ اور میکائیل ایسا نہیں ہے جو جبرائیل کے دشمنوں سے مصالحت رکھتا ہو اور نہ ہی جبرائیل ایسا ہے کہ وہ میکائیل کے دشمنوں سے مصالحت رکھتا ہو۔ حضرت عمر ، یہود کے پاس ہی موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو یہود نے کہا۔ یہ تمہارے ساتھی ہیں۔ اے ابن خطاب ! پس حضرت عمر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے درآنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیات نازل ہوچکی تھیں۔ { مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللہِ …إِلَی قَوْلِہِ… فَإِنَّ اللَّہَ عَدُوٌّ لِلْکَافِرِینَ }۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [س]: (مجاهد).
(٣) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٤) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٥) في [أ، ب]: (قالوا).
(٦) في [ط، هـ]: (كفيل).
(٧) في [أ]: (فإن).
(٨) في [ط، هـ]: (كفيل).
(٩) في [هـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٠) سقط من: [س].
(١١) سقط من: [جـ، ق].
(١٢) في [س]: (أنشد).
(١٣) في [ي]: (منزلان).
(١٤) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (ليسال).
(١٥) في [أ، جـ، س، ي]: (ليسال)، وفي [ب]: (ليسال).
(١٦) في [ب]: (صاحبكم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39299
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عامر تابعي، ومجالد ضعيف، أخرجه ابن أبي حاتم (٩٦٠)، وابن جرير في التفسير ١/ ٤٣٣ و ٤٣٥، وابن شبه (١٤٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39299، ترقيم محمد عوامة 37695)