حدیث نمبر: 39298
٣٩٢٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن عبيد بن عمير قال: لما أراد اللَّه أن يهلك أصحاب الفيل بعث عليهم طيرا أنشئت من البحر أمثال الخطاطيف، كل طير منها يحمل ثلاثة أحجار مجزعة: حجرين في رجليه وحجرا في منقاره، قال: فجاءت حتى صفت على رؤوسهم ثم صاحت فألقت ما في أرجلها ومناقيرها، فما يقع على رأس رجل إلا خرج من دبره، ولا يقع على شيء من جسده إلا خرج (١) من الجانب الآخر قال: وبعث اللَّه ريحا شديدة (٢) فضربت الحجارة فزادتها شدة قال: فأهلكوا جميعا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان پرندوں کو بھیجا جن کو سمندر سے نکالا گیا تھا اور وہ ابابیلوں کے مشابہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک پرندہ سفید و سیاہ رنگ کے تین پتھر اٹھائے ہوا تھا۔ دو پتھر اس کے پاؤں میں تھے اور ایک پتھر اس کی چونچ میں ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس وہ پرندے آئے یہاں تک کہ انہوں نے اصحاب الفیل کے سروں پر صفیں بنالیں۔ پھر انہوں نے آواز نکالی اور جو پتھر ان کے پنجوں اور چونچوں میں تھے وہ انہوں نے پھینک دیے۔ پس کوئی پتھر کسی آدمی کے سر پر نہیں گرتا تھا مگر یہ کہ اس کی دبر سے خارج ہوتا۔ اور آدمی کے جسم کے کسی حصہ پر نہیں لگتا تھا مگر یہ کہ دوسری جانب سے نکل آتا تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیز آندھی بھیجی اس نے (بھی) پتھر مارے پس پتھروں کی شدت بڑھ گئی۔ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ تمام لوگ ہلاک کردیئے گئے۔

حواشی
(١) في [س]: زيادة (من دبره لا تقع على شيء من جسده إلا خرج).
(٢) إلى هنا ينتهي سقط نسخة [ي] الذي ابتدأ من أول كتاب الرد على أبي حنيفة برقم [٣٨٨٠١].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39298
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبيد بن عمير ليس له رواية عن النبي ﷺ.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39298، ترقيم محمد عوامة 37694)