مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: الصدقة تحل لموالي بني هاشم وغيرهم باب: آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صدقہ کے حکم کا بیان
٣٩٢٨٩ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن زيد بن أسلم عن ابن عمر قال: دخل ⦗٣٤٢⦘ رسول اللَّه ﷺ مسجد بني عمرو بن عوف يصلي فيه، (ودخلت) (١) عليه رجال من الأنصار ودخل معهم صهيب، فسألت صهيبا: كيف كان رسول اللَّه ﷺ يصنع حيث كان يسلم عليه؟ قال: كان يشير بيده (٢).حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد بنی عمرو بن عوف میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس انصار کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور ا ن کے ساتھ حضرت صہیب بھی حاضر ہوئے۔ میں نے حضرت صہیب سے پوچھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیتے تھے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : نمازی (ایسا) نہیں کرے گا۔