مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة رخص فيه باب: کسی شہری کا کسی دیہاتی کے لئے دلّالی کرنے کا بیان
٣٩٢٨٥ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا (معرف) (١) (حدثتني) (٢) حفصة ابنة (طلق) (٣) امرأة من الحي سنة تسعين عن (جدي) (٤) أبي (عَميرة) (٥) رشيد بن مالك قال: كنت عند النبي ﷺ جالسا ذات يوم، فجاء رجل بطبق عليه تمر، فقال: "ما هذا؟ صدقة أم هدية؟ " فقال الرجل: بل صدقة، فقدمها إلى القوم، والحسن (متعفر) (٦) بين يديه فأخذ تمرة فجعلها في (فيه) (٧)، فنظر رسول اللَّه ﷺ إليه، فأدخل إصبعه في فيه ثم قال بها، ثم قال: "إنا آل محمد (٨) لا نأكل الصدقة" (٩).حضرت ابو عمیرہ رشید بن مالک روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک آدمی طبق لے کر حاضر ہوا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ صدقہ ہے یا ہدیہ ؟ اس آدمی نے عرض کیا (ہدیہ نہیں ہے) بلکہ صدقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجوروں کا طبق لوگوں کی طرف بڑھا دیا۔ حسن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مٹی میں لوٹ رہے تھے تو انہوں نے ایک کھجور پکڑی اور اس کو اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک ان کے منہ میں داخل کی اور اس کو باہر نکال لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بلاشبہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدقہ نہیں کھاتے۔