مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة رخص فيه باب: کسی شہری کا کسی دیہاتی کے لئے دلّالی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 39284
٣٩٢٨٤ - حدثنا الحسن بن موسى حدثنا زهير عن عبد اللَّه بن عيسى عن أبيه عن جده عن أبي ليلى قال: كنت عند رسول اللَّه ﷺ فقام فدخل بيت الصدقة فدخل معه الغلام -يعني حسنا (أو) (١) حسينا- فأخذ تمرة فجعلها في فيه، فاستخرجها النبي ﷺ وقال: "إن الصدقة لا تحل لنا" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور صدقہ کے کمرہ میں داخل ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک بچہ، حضرت حسن یا حضرت حسین بھی داخل ہوگیا۔ پس اس بچہ نے ایک کھجور پکڑ لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو باہر نکلوایا اور فرمایا ۔ بلاشبہ ہمارے لیئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (و).