حدیث نمبر: 39268
٣٩٢٦٨ - حدثنا يحيى بن زكريا (عن زكريا) (١) عن الشعبي عن جابر قال: بعته (منه) (٢) بأوقية واستثنيت حملانه إلى أهلي، فلما بلغت المدينة آتيته فنقدني وقال: "أتراني إنما (ماكستك) (٣) لآخذ جملك ومالك، فهما لك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر سے روایت ہے کہ میں نے اس (اونٹ) کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چند اوقیہ کے عوض بیچ دیا اور میں نے اپنے گھر تک اس جانور کی سواری کا (اپنے لئے) استثناء کرلیا۔ پس جب مدینہ پہنچا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضرہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رقم مجھے دے دی اور فرمایا۔ تم میرے بارے میں کیا خیال کرتے ہو کہ میں تم سے قیمت اس لئے کم کروا رہا ہوں کہ میں تمہارے اونٹ بھی لے لوں اور مال بھی ؟ پس یہ دونوں تمہارے ہیں۔ اور لوگ بیان کرتے ہیں کہ (امام) ابوحنیفہ کی اس مسئلہ میں یہ رائے نہ تھی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣) في [س]: (ماكست)، وفي [أ]: (إنما كسن)، والمراد فاوضتك لانقاص الثمن.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39268
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٠٧٩)، ومسلم (٧١٥)، كتاب المساقاة، حديث (١٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39268، ترقيم محمد عوامة 37664)