حدیث نمبر: 39260
٣٩٢٦٠ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا ابن أبي ذئب عن المقبري عن عبد الرحمن ابن أبي سعيد الخدري (عن) (١) أبيه قال: حبسنا يوم الخندق عن الظهر والعصر (والمغرب) (٢) والعشاء، حتى كفينا ذلك، وذلك قول اللَّه ﵎: ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ (وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا) (٣)﴾ [الأحزاب: ٢٥]، فقام (رسول) (٤) اللَّه ﷺ فأمر (بلالًا) (٥) فأقام فصلى الظهر كما كان يصليها قبل ذلك، ثم أقام (٦)، فصلى العصر كما كان يصليها قبل ذلك، (ثم أقام المغرب فصلاها كما كان ⦗٣٣٣⦘ يصليها قبل ذلك، ثم أقام العشاء فصلاها كما كان يصليها قبل ذلك) (٧)، وذلك قبل أن ينزل: ﴿فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾ [البقرة: ٢٣٩] (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن بن ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں خندق کے دن ظہر، عصر ، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا گیا (یعنی مشرکین نے روک رکھا) یہاں تک کہ ہماری اس بارے میں کفایت کردی گئی اور اس بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔ { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } پس رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے ظہر پڑھا کرتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے مغرب پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے عشاء کے لئے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے عشاء پڑھا کرتے تھے۔ اور یہ واقعہ { فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا } کے اترنے سے پہلے کا ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب آدمی کی کئی نمازیں فوت ہوجائیں تو ان میں سے کسی کے لئے اذان کہی جائے گی اور نہ اقامت کہی جائے گی۔

حواشی
(١) في [م]: (على).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [جـ]: تكرر.
(٤) في [ب]: تكرر.
(٥) في [هـ]: (بلال).
(٦) في [هـ]: زيادة (العصر).
(٧) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39260
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١١٦٤٤)، والنسائي ٢/ ١٧، وابن خزيمة (٩٩٦)، والطيالسي (٢٢٣١)، والشافعي ١/ ١٩٦، والدارمي ١/ ٣٥٨، وأبو يعلي (١٢٩٦)، والبيهقي ٣/ ٢٥١، وابن عبد البر في التمهيد ٥/ ٢٣٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39260، ترقيم محمد عوامة 37656)