حدیث نمبر: 39247
٣٩٢٤٧ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن عبد اللَّه بن رافع عن أم سلمة قالت: جاء رجلان من الأنصار يختصمان إلى رسول اللَّه ﷺ في مواريث بينهما قد ⦗٣٢٩⦘ درست ليست بينهما بينة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنكم (تختصمون) (١) إليَّ وإنما أنا بشر، ولعل بعضكمَ أن يكون ألحن بحجته من بعض، وإنما أقضي بينكم، فمن قضيت له من حق أخيه شيئا فلا يأخذه فإنما أقطع له قطعة من النار يأتي بها (٢) يوم القيامة"، قال: فبكى الرجلان وقال كل واحد منهما: حقي لأخي يا رسول اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أما إذ فعلتما فاذهبا (فاقتسما) (٣) وتوخيا الحق، ثم ليحلل كل واحد منكما صاحبه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ انصار میں سے دو آدمی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں باہم ایک قدیم وراثت کا ، جس پر ان کے پاس گواہ نہیں تھے۔ جھگڑا لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک تم لوگ میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو اور میں تو ایک بشر ہوں ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض ، بعض سے بہتر اپنی حجت بیان کرسکتا ہو اور میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں پس جس شخص کے لئے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کسی شئی کا فیصلہ کر دوں تو وہ اسے نہ لے۔ (اس صورت میں) میں اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں جس کے ساتھ وہ بروز قیامت حاضر ہوگا۔ ام سلمہ کہتی ہیں۔ پس دونوں آدمی رو پڑے اور ہر ایک نے ان میں سے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میر احق میرے بھائی کے لئے ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اس پر راضی ہو تو جاؤ اور تقسیم کرلو اور ایک دوسرے کا حق پورا پورا ادا کرو اور ہر ایک اپنے بھائی کو معاف کرے۔

حواشی
(١) في [ب]: (يحتصمون).
(٢) في [هـ]: زيادة (على نحو مما أسمع منكم).
(٣) في [هـ]: (فاقسما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39247
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أسامة بن زيد صدوق، وأخرجه أحمد (٦٧١٧)، وأبو داود (٣٥٨٤)، وأبو يعلي (٦٨٩٧)، والحاكم ٤/ ٩٥، وإسحاق (١٨٢٣)، والطحاوي ٤/ ١٥٥، والدارقطني ٤/ ٢٣٨، وابن الجارود (١٠٠٠)، والبيهقي ٦/ ٦٦، والبغوي (٢٥٠٨)، والطبراني ٢٣/ (٦٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39247، ترقيم محمد عوامة 37643)