مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة كره أن (تخص) سورة ليوم الجمعة والعيدين باب: جمعہ اور عیدین میں قراء ت کا بیان
٣٩٢٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون حدثنا محمد بن إسحاق عن سعيد بن (السباق) (١) عن أبيه عن سهل بن حنيف قال: كنت ألقى من المذي شدة، فكنت أكثر الغسل منه، فذكرت ذلك لرسول اللَّه ﷺ فقال: "إنما يكفيك من ذلك ⦗٣٢٦⦘ الوضوء"، قال: قلت: يا رسول اللَّه، فكيف بما يصيب ثوبي؟ قال: "إنما يكفيك كف (من) (٢) ماء تنضح به من ثويك حيث ترى أنه أصاب" (٣).حضرت سہل بن حنیف بیان فرماتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے بڑی تکلیف تھی اور میں اس کی وجہ سے بکثرت غسل کرتا تھا۔ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں مذی سے وضو ہی کفایت کر دے گا۔ حضرت سہل فرماتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جو میرے کپڑوں کو لگ گئی ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک چلو پانی تجھے کافی ہے۔ اس کو تو اپنے کپڑوں کے اس حصہ پر چھڑک دے جہاں تیرے گمان کے مطابق مذی لگی ہے۔