مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة كره أن يخص سورة يقرأ بها في الوتر باب: وتروں میں قراء ت کا بیان
٣٩٢٢٩ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن عبيد اللَّه بن أبي رافع قال: استخلف مروان أبا هريرة على المدينة وخرج إلى مكة، فصلى بنا أبو هريرة الجمعة فقرأ بسورة الجمعة في السجدة الأولى، وفي الآخرة: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾، قال عبيد اللَّه: فأدركت أبا هريرة حين انصرف فقلت: إنك قرأت بسورتين فإن علي ﵀ يقرأ بهما في الكوفة، فقال أبو هريرة: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقرأ بهما (١).حضرت عبد اللہ بن ابو رافع سے روایت ہے کہ مروان نے ابوہریرہ کو مدینہ میں امیر مقرر کیا اور خود مکہ کی طرف نکل گیا تو ابوہریرہ نے ہمیں جمعہ پڑھایا۔ پہلی رکعت میں سورة جمعہ قرائت فرمائی اور دوسری رکعت میں {إِذَا جَائَک الْمُنَافِقُونَ } عبیداللہ کہتے ہیں۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں ابوہریرہ کے پاس گیا اور میں نے کہا۔ بیشک آپ نے (آج) وہ دو سورتیں قرائت کی ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ ابوہریرہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دونوں سورتیں پڑھتے سُنا ہے۔