حدیث نمبر: 39215
٣٩٢١٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن أسامة بن زيد (عن الزهري) (١) عن أنس قال: لما كان يوم أحد مر النبي ﷺ بحمزة وقد جدع ومثّل به، فقال: "لولا أن تجد صفية لتركته حتى يحشره اللَّه من بطون السباع والطير"، ولم يصل على أحد من الشهداء وقال: "أنا شهيد عليكم اليوم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب احد کا دن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حمزہ کے پاس سے گزرے اور ان کے ناک کو کاٹ دیا گیا تھا اور ان کو مثلہ بنادیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ (ان کو) صفیہ پالے گی تو میں ان کو (یونہی) چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اللہ پاک ان کو درندوں اور پرندوں کے پیٹوں سے جمع فرماتے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء میں سے کسی پر جنازہ نہیں پڑھایا۔ اور فرمایا : میں آج تم پر گواہ ہوں۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : شہید پر جنازہ پڑھا جائے گا۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) معلول؛ غلط فيه أسامة، وغيره ويرويه كالذي قبله، وأخرجه أحمد (١٢٣٠٠)، وأبو داود (٣١٣٦)، والترمذي (١٠١٦)، والحاكم ١/ ٣٦٥، وابن سعد ٣/ ١٤، والشافعي ١/ ٢٠٤، والطحاوي ١/ ٥٠٢، والدارقطني ٤/ ١١٦، وعبد بن حميد (١١٦٤)، وأبو يعلى (٣٥٦٨)، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٢٢٦، والطبراني (٢٩٣٨)، والبيهقي ٤/ ١٠.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39215
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39215، ترقيم محمد عوامة 37611)