مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
(وذكر) أن أبا حنيفة قال: (لا) يصلي حين تغيب أو تطلع (وتمكن) الصلاة باب: فجر کی نماز کے بعد نماز طواف کرنے کا بیان
٣٩٢٠٦ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن سعيد بن يزيد قال: سمعت خالد بن أبي عمران يحدث عن حنش عن فضالة بن عبيد قال: أتى (النبي) (١) ﷺ يوم خيبر بقلادة فيها خرز معلقة بذهب ابتاعها رجل بسبعة دنانير، أو بتسعة دنانير، فأتى النبي ﷺ فذكر ذلك له فقال: "لا، حتى (تميز) ما بينهما" (٢)، قال: إنما أردت الحجارة، قال: "لا، حتى (تميز) (٣) ما بينهما"، قال: فرده حتى ميز (٤).حضرت فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خیبر کے دن ایک ہار لایا گیا جس میں سونے کے ساتھ لٹکے ہوئے موتی تھے۔ اس ہار کو ایک آدمی نے سات یا نو دیناروں کے عوض خریدا۔ پس یہ ہار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا اور اس کی خریداری کا تذکرہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! یہاں تک کہ دونوں کو جُدا جُدا کردیا جائے۔ کسی نے عرض کیا۔ آپ کا ارادہ پتھر کے بارے میں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! یہاں تک کہ یہ دونوں جُدا جُدا ہوں۔ راوی کہتے ہیں اس نے یہ ہار واپس کردیا یہاں تک کہ (انہیں) جُدا کردیا گیا۔