مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: وقت العشاء إلى نصف الليل باب: عشاء کے وقت کا بیان
٣٩١٩٩ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا سعيد عن قتادة أن سليمان بن يسار قال: القسامة حق، قضى بها رسول اللَّه ﷺ، بينما الأنصار عند رسول اللَّه ﷺ (إذ) (١) خرج رجل منهم، ثم خرجوا من عند النبي ﷺ، فإذا هم بصاحبهم يتشحط في دمه، فرجعوا إلى النبي ﷺ فقالوا: قتلنا اليهود -وسموا رجلا منهم، ولم تكن ⦗٣١٥⦘ (لهم) (٢) بينة، فقال لهم النبي ﷺ: "شاهدان من غيركم حتى (أدفعه) (٣) إليكم برمته"، فلم تكن لهم، فقال: "استحقوا بخمسين (قسامة) (٤) أدفعه إليكم برمته"، فقالوا: يا رسول اللَّه إنا نكره أن (نحلف) (٥) على غيب، فأراد رسول اللَّه ﷺ أن يأخذ قسامة اليهود بخمسين منهم، فقالت الأنصار: يا رسول اللَّه، إن اليهود لا يبالون (الحلف) (٦)، متى (ما) (٧) (نقبل) (٨) هذا منهم (يأتوا) (٩) على آخرنا، فوداه النبي ﷺ من عنده (١٠).حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ قسامت برحق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ذریعہ سے فیصلہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس انصار حاضر تھے کہ ان میں سے ایک انصاری چلے گئے پھر (بعد میں) بقیہ انصار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے چلے گئے۔ ناگہاں انہوں نے اپنے ساتھی کو خون میں لت پت دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کیا۔ ہمیں یہودیوں نے قتل کیا ہے اور انہوں نے یہودیوں میں سے ایک شخص کا نام لیا لیکن ان کے پاس گواہ نہیں تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہارے سوا دو گواہ ہوں تاکہ میں اس مسمّٰی شخص کو تمہارے حوالہ کر دوں ؟ لیکن ان کے پاس گواہ نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم پچاس قسموں کے ذریعہ استحقاق پیدا کرلو تاکہ میں یہ شخص تمہارے حوالہ کر دوں ؟ انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم غیب کی بات پر قسم کھانے کو پسند نہیں کرتے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود سے پچاس قسمیں لینے کا ارادہ فرمایا تو انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہود قسموں کی کوئی پروا نہیں کرتے۔ جب ہم ان سے اس (مقتول پر قسموں) کو قبول کرلیں گے تو یہ کسی اور پر دست درازی کریں گے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقتول کی دیت اپنی طرف سے ادا فرمائی۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : خون کا دعویٰ کرنے والوں کی قسموں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔