مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: وقت العشاء إلى نصف الليل باب: عشاء کے وقت کا بیان
٣٩١٩٧ - حدثنا الفضل بن دكين عن سعيد بن عبيد الطائي عن (بُشير) (١) بن (يسار) (٢) أن رجلا من الأنصار يقال له سهل بن أبي (حثمة) (٣) أخبره أن نفرا من قومه انطلقوا إلى خيبر فتفرقوا فيها فوجدوا أحدهم قتيلا، فقالوا للذين وجدوه عندهم: قتلتم صاحبنا، قالوا: ما قتلنا ولا علمنا قاتلا، قال: فانطلقوا إلى نبي اللَّه، فقالوا: يا نبي اللَّه، انطلقنا إلى خيبر فوجدنا أحدنا قتيلا، فقال النبي ﵊ (٤): "الكبر الكبر"، فقال لهم "تأتون بالبينة على من قتل"، ⦗٣١٤⦘ قالوا: ما لنا بينة، قال: "فيحلفون لكم"، قالوا: لا نرضى بأيمان اليهود، فكره نبي اللَّه ﷺ (٥) أن يبطل (دمه) (٦)، (فوداه) (٧) بمائة من إبل الصدقة (٨).حضرت سہل بن ابی حثمہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی قوم کے چند افراد خیبر کی طرف چلے۔ پس وہ وہاں سے منتشر ہوگئے۔ اور انہوں نے ایک فرد کو مقتول پایا۔ تو انہوں نے ان لوگوں سے جن کے ہاں مقتول پایا گیا تھا۔ کہ کہ تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا : ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل کا علم ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس یہ لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ یا نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم لوگ خیبر کی طرف چلے تو ہم نے اپنا ایک آدمی مقتول پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان (مقتول کی قوم) سے فرمایا : تم قتل کرنے والے کے خلاف گواہ پیش کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا۔ ہمارے پا س گواہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر وہ لوگ تمہارے سامنے قسم اٹھائیں گے۔ ان لوگوں نے عرض کیا۔ ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقتول کے خون کو ضائع ہونا ناپسند فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صد اونٹ صدقہ کے بطور دیت ادا کئے۔