مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: وقت العشاء إلى نصف الليل باب: عشاء کے وقت کا بیان
٣٩١٩٥ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد أن القسامة كانت في الجاهلية فأقرها النبي ﷺ في قتيل من الأنصار وجد في (جب) (١) اليهود قال: فبدأ النبي ﷺ باليهود فكلفهم قسامة خمسين، فقالت اليهود: لن (نحلف) (٢) فقال: ⦗٣١٣⦘ النبي ﷺ للأنصار: "أفتحلفون؟ " قالت الأنصار: لن (نحلف) (٣)، فأغرم النبي ﷺ اليهود ديته؛ لأنه قتل بين أظهرهم (٤).حضرت سعید فرماتے ہیں کہ قسامت جاہلیت میں (بھی) تھی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے اس کو انصار کے ایک اس مقتول کے بارے میں برقرار رکھا جو یہود کے کنویں میں (مقتول) پایا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود سے ابتدا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پچاس قسموں کا پابند ٹھہرایا۔ تو یہود نے کہا۔ ہم ہرگز قسم نہیں کھائیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے کہا : کیا تم قسم اٹھاؤ گے ؟ انصار نے کہا : ہم ہرگز قسم نہیں کھائیں گے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقتول کی دیت یہود کے ذمہ لگا دی۔ کیونکہ یہ انہی کے درمیان قتل ہوا تھا۔