حدیث نمبر: 39195
٣٩١٩٥ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد أن القسامة كانت في الجاهلية فأقرها النبي ﷺ في قتيل من الأنصار وجد في (جب) (١) اليهود قال: فبدأ النبي ﷺ باليهود فكلفهم قسامة خمسين، فقالت اليهود: لن (نحلف) (٢) فقال: ⦗٣١٣⦘ النبي ﷺ للأنصار: "أفتحلفون؟ " قالت الأنصار: لن (نحلف) (٣)، فأغرم النبي ﷺ اليهود ديته؛ لأنه قتل بين أظهرهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید فرماتے ہیں کہ قسامت جاہلیت میں (بھی) تھی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے اس کو انصار کے ایک اس مقتول کے بارے میں برقرار رکھا جو یہود کے کنویں میں (مقتول) پایا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود سے ابتدا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پچاس قسموں کا پابند ٹھہرایا۔ تو یہود نے کہا۔ ہم ہرگز قسم نہیں کھائیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے کہا : کیا تم قسم اٹھاؤ گے ؟ انصار نے کہا : ہم ہرگز قسم نہیں کھائیں گے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقتول کی دیت یہود کے ذمہ لگا دی۔ کیونکہ یہ انہی کے درمیان قتل ہوا تھا۔

حواشی
(١) في [س]: (حب).
(٢) في [س]: (تخلف).
(٣) في [أ، ب]: (نحلت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39195
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، سعيد تابعي، وأخرجه النسائي (٦٩١٢)، وعبد الرزاق (١٨٢٥٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٥٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39195، ترقيم محمد عوامة 37591)