مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: لا تصلى صلاة الاستسقاء في جماعة ولا يخطب فيها باب: کیا استسقاء میں نماز اور خطبہ ہے؟
حدیث نمبر: 39193
٣٩١٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن (عبيد اللَّه) (١) (عن نافع) (٢) عن صفية ابنة أبي عبيد أن عمر بن الخطاب كتب إلى أمراء الأجناد يوقت لهم (الصلاة) (٣)، قال: صلوا صلاة العشاء إذا غاب الشفق، فإن شغلتم فما بينكم وبين أن يذهب ثلث الليل، ولا تشاغلوا عن الصلاة، فمن رقد بعد ذلك فلا أرقد اللَّه عينه -يقولها ثلاث مرار (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیۃ بنت ابی عبید بیان فرماتی ہیں کہ عمر بن خطاب نے لشکروں کے امیروں کی طرف ایک خط میں نماز کے اوقات لکھے۔ آپ نے فرمایا : عشاء کی نماز پڑھو، جبکہ شفق غائب ہوجائے پس اگر تمہیں کوئی مشغولیت ہو تو پھر تمہارے اور تہائی رات کے درمیان (وقت) ہے اور تم خود کو نماز کے حق میں مشغول ظاہر نہ کرو۔ جو شخص اس کے بعد سو جائے تو پس اللہ اس کی آنکھوں کو نیند نہ عطا کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [جـ]: تكرر.
(٣) في [س]: (الصلوات).
(٤) منقطع؛ صفية لم تسمع من عمر، أخرجه ابن المنذر في الأوسط (١٠٤٢).