حدیث نمبر: 39191
٣٩١٩١ - حدثنا وكيع عن (بدر) (١) (بن عثمان) (٢) سمعه من أبي بكر بن أبي موسى عن أبيه (أن) (٣) سائلا أتى النبي ﷺ فسأله عن مواقيت الصلاة، فلم يرد عليه شيئًا، ثم أمر بلالا فأقام العشاء الآخرة عند سقوط الشفق ثم صلى من الغد العشاء ثلث الليل ثم قال: "أين السائل عن الوقت؟ ما بين هذين الوقتين وقت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

ابوبکر بن ا بو موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک سائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز عشاء کے لئے غروب شفق کے وقت امامت کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلے روز عشاء کی نماز تہائی رات کو ادا فرمائی۔ پھر فرمایا اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ ان دو (مقررہ) اوقات کے درمیان (عشاء کا) وقت ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (زيد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39191
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٦١٤)، وأحمد (١٩٧٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39191، ترقيم محمد عوامة 37587)