مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: لا تصلى صلاة الاستسقاء في جماعة ولا يخطب فيها باب: کیا استسقاء میں نماز اور خطبہ ہے؟
حدیث نمبر: 39190
٣٩١٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن أبي ربيعة عن حكيم بن حكيم بن عباد بن (حنيف) (١) عن نافع بن جبير بن مطعم عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمني جبرئيل عند البيت مرتين، فصلى بي العشاء حين غاب الشفق وصلى بي من (الغد) (٢) العشاء ثلث الليل الأول، وقال: ⦗٣١١⦘ هذا الوقت وقت النبيين قبلك، الوقت بين هذين الوقتين" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ امامت کروائی ہے۔ پس جب شفق غائب ہوگیا تو انہوں نے مجھے عشاء کی نماز پڑھائی۔ اور اگلے دن انہوں نے مجھے رات کے پہلے ثلث پر عشاء کی نماز پڑھائی اور فرمایا : یہ وقت (نماز) آپ سے پہلے انبیاء کا وقت (نماز) ہے۔ اور انہی دو (مقررہ) اوقات کے درمیان (عشاء کا) وقت ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (حنيفة).
(٢) في [ب]: (بعد).