مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يجلس إلا جلسة واحدة باب: جمعہ کے خطبہ میں دو مرتبہ بیٹھنے کا یبان
٣٩١٣٠ - حدثنا هشيم عن عبد الملك عن عطاء أن رجلا صلى مع النبي ﷺ صلاة الصبح، فلما قضى النبي ﷺ الصلاة قام الرجل فصلى ركعتين فقال له النبي ﷺ: "ما هاتان الركعتان؟ " فقال: يا رسول اللَّه ﷺ (١) جئت وأنت في الصلاة ولم أكن صليت الركعتين قبل الفجر، فكرهت أن أصليهما وأنت تصلي، فلما قضيتَ الصلاة قمتُ فصليتهما، قال: فلم يأمره ولم ينهه (٢).حضرت عطا فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز صبح ادا کی ۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو وہ صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے دو رکعات ادا فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہوں نے انہں پوچھا : یہ دو رکعات کیا ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس وقت (مسجد میں) آیا جبکہ آپ نماز میں تھے۔ اور میں نے فجر سے پہلے والی دو رکعات بھی نہیں پڑھی تھیں۔ میں نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ آپ نماز پڑھا رہے ہوں اور میں وہ دو رکعات پڑھوں۔ پس جب آپ نے نماز پوری کرلی تو میں نے ان دو رکعتوں کو ادا کرلیا۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نہ حکم دیا اور نہ ہی ان کو (اس سے) منع کیا۔