مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة كان يكره المسح على الجوربين والنعلين إلا أن يكون أسفلهما جلود باب: جرابوں پر مسح کا بیان
حدیث نمبر: 39118
٣٩١١٨ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن مسلم مولى عبد القيس قال: قال رجل لابن عمر: أرأيت الوتر سنة هو؟ قال: ما سنة؟ أوتر النبي ﷺ وأوتر المسلمون، (قال) (١): لا، أسنة هو؟ قال: مه، أتعقل: أوتر النبي ﷺ وأوتر المسلمون (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم مولی عبد القیس بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ کی کیا رائے ہے کہ وتر سُنّت ہے ؟ آپ نے فرمایا : سُنّت کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے (بس) ۔ سائل نے عرض کیا۔ نہیں۔ کیا یہ سُنّت ہے ؟ آپ نے فرمایا : چھوڑو ! تم میں عقل ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے۔ (بس بات ختم)
حواشی
(١) في [س]: تكرر.