حدیث نمبر: 39117
٣٩١١٧ - حدثنا يزيد عن يحيى بن سعيد أن محمد بن يحيى بن حبان أخبره عن ابن محيريز القرشي أنه أخبره عن المخدجي -رجل من بني كنانة- أنه أخبره أن رجلا من الأنصار -كان بالشام يكنى أبا محمد وكانت له صحبة- فأخبره أن الوتر واجب، فذكر المخدجي أنه راح إلى عبادة بن الصامت فأخبره، فقال عبادة: كذب أبو محمد، سمعت النبي ﷺ يقول: "خمس صلوات كتبهن اللَّه على العباد من جاء بهن لم يضيع من (حقهن) (١) جاء و (له) (٢) عند اللَّه عهد أن يدخله الجنة ومن انتقص من حقهن جاء وليس له عند اللَّه عهد: إن شاء عذبه، وإن شاء أدخله الجنة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

بنو کنانہ کے ایک صاحب حضرت مخدجی بیان کرتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری تھے جنہیں صحبت بھی حاصل تھی ۔ اور جن کی کنیت ابو محمد تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ وتر واجب ہے ۔ مخدجی ذکر کرتے ہیں کہ وہ (مخدجی) حضرت عبادہ بن صامت کے پاس گئے اور انہیں یہ بات (وجوب وتر) بیان کی تو حضرت عبادہ نے فرمایا : ابو محمد نے غلط بات کہی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سُنا ہے کہ پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض فرمایا ہے۔ جو شخص انہیں یوں ادا کرے گا (لے کر آئے گا) کہ ان کے حقوق میں سے کچھ بھی ضائع نہ کیا ہو تو وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عہد ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ اور جو شخص ان نمازوں کے حقوق میں سے کچھ کمی کرے گا تو وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عہد نہیں ہے۔ اگر اللہ چاہے گا تو اس کو عذاب دے گا اور اگر اللہ چاہے گا تو اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔

حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (شيئًا).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (ليس).
(٣) مجهول؛ لجهالة المخدجي، أخرجه أحمد (٢٢٦٩٣)، وأبو داود (١٤٢٠)، وابن ماجه (١٤٠١)، والنسائي (١٧٣٢)، وابن حبان (١٧٣٢)، ومالك ١/ ١٢٣، والطيالسي (٥٧٣)، والدارمي (١٥٧٧)، وعبد الرزاق (٤٥٧٥)، والحميدي (٣٨٨)، والشاشي (١٢٨١)، والطحاوي في شرح المشكل (٣١٦٧)، والطبراني في مسند الشاميين (٢١٨١)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ١٢٦، والبغوي (٩٧٨).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39117
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39117، ترقيم محمد عوامة 37513)