مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: يأكل منها أهل الرفقة باب: ہدی (حج کی قربانی) میں سے کھانے کا بیان
٣٩٠٩٨ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن طاوس قال: قيل لصفوان بن أمية وهو بأعلى مكة: لا دين لمن لم يهاجر، فقال: واللَّه لا أصل إلى أهلي حتى، (آتي) (١) المدينة، فأتى المدينة فنزل على العباس فاضطجع في المسجد وخميصته تحت رأسه، فجاء سارق فسرقها من تحت رأسه، فأتى به النبي ﷺ فقال: إن هذا سارق، فأمر به فقطع فقال: هي له، فقال: ⦗٢٩١⦘ "فهلا قبل أن تأتيني به" (٢).حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ صفوان بن امیہ کہ کہا گیا جبکہ وہ مکہ کے اونچے علاقہ میں تھا کہ جو ہجرت نہ کرے اس کا دین نہیں ہے۔ اس نے کہا : بخدا میں اپنے گھر والوں کے پاس نہیں پہنچوں گا یہاں تک کہ میں مدینہ آؤں۔ پس وہ مدینہ میں آئے اور حضرت عباس کے پاس اترے اور مسجد میں لیٹے اور ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی۔ ایک چور آیا اور اس نے ان کے سر کے نیچے سے چادر چُرا لی۔ صفوان اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یہ چور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ صفوان نے کہا۔ یہ چادر اس کے لئے ہدیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ اس طرح (ہدیہ) کردیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب مالک چور کو مسروقہ سامان ہدیہ کرے تو چور سے حد ساقط ہوجاتی ہے۔