مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: تجزئه وقد أساء باب: نماز میں اطمینان اور ارکان میں آہستہ ادائیگی کا بیان
٣٩٠٥٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي جعفر الخطمي قال: بعثني عمي وغلاما له إلى سعيد بن المسيب فقال: ما تقول في المزارعة؟ فقال: كان ابن عمر لا يرى فيها بأسا حتى حدث (١) فيها بحديث أن رسول اللَّه ﷺ أتى بني حارثة فرأى زرعا في أرض ظهير فقال: "ما أحسن زرع ظهير"، فقالوا: إنه ليس لظهير قال: "أليست ⦗٢٧٨⦘ الأرض أرض ظهير؟ " قالوا: بلى، ولكنه زارع فلانا، قال: "فردوا عليه نفقته وخذوا زرعكم"، قال رافع: فأخذنا زرعنا ورددنا عليه نفقته (٢).حضرت ابو جعفر خطمی فرماتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کی طرف بھیجا کہ آپ مزارعت کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔ یہاں تک کہ انہیں مزارعت کے بارے میں یہ حدیث بیان کی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی حارثہ کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ کھیتی ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں (اسی کی ہے) لیکن اس میں فلاں نے زراعت کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس فلاں کو اس کا خرچہ واپس کردو اور اپنی کھیتی لے لو۔ حضرت رافع فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور اس پر اس کا خرچہ لوٹا دیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : وہ اپنی کھیتی کو اکھیڑ لے۔