حدیث نمبر: 39050
٣٩٠٥٠ - حدثنا أبو خالد عن ابن عجلان عن علي بن يحيى بن خلاد عن أبيه عن عمه وكان بدريا قال: كنا جلوسا مع النبي ﷺ إذ دخل رجل يصلي، فصلى صلاة خفيفة لا يتم ركوعا ولا سجودا، ورسول اللَّه ﷺ يرمقه ولا يشعر، فصلى ثم جاء فسلم على النبي ﷺ فرد عليه النبي ﷺ فقال: "أعد، فإنك لم تصل"، ففعل ⦗٢٧٧⦘ ذلك ثلاثًا، كل ذلك يقول: "أعد، فإنك لم تصل" (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن یحییٰ بن خلاد اپنے والد سے ، اپنے چچا سے جو کہ بدری تھے، روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نماز پڑھنے کے لئے داخل ہوا ۔ پس اس نے ہلکی سی (یعنی تیز تیز) نماز پڑھی۔ نہ رکوع پورا کیا اور نہ سجدہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دیکھ رہے تھے اور اس کو پتہ نہ تھا۔ پس اس نے (یونہی) نماز پڑھی اور حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا (نماز کا) اعادہ کرو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس آدمی نے تین مرتبہ یہ کام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مرتبہ فرماتے (نماز کا) اعادہ کرو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39050
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، أخرجه أحمد (١٨٩٩٧)، والنسائي ٢/ ١٩٣، وابن حبان (١٧٨٧)، والشافعي في الأم ١/ ٨٨، والبخاري في القراءة خلف الإمام (١١٢)، والطبراني (٤٥٢٤)، وابن أبي عاصم (١٩٧٦)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٢٤٥)، كما أخرجه بنحوه أبو داود (٨٦١)، والترمذي (٣٠٢)، وابن ماجه (٤٦٠)، وابن خزيمة (٥٤٥)، والحاكم ١/ ٢٤٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39050، ترقيم محمد عوامة 37449)