مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: هذا الشراء فاسد لا يجوز باب: خریدار کا خریداری میں وَلاء کی شرط لگانے کا بیان
٣٩٠٤٦ - حدثنا وكيع (عن) (١) الأعمش عن سلمة بن كهيل عن ابن أبزى عن (أبيه) (٢) قال: قال عمر لعمار: أما تذكر يوم كنا في كذا وكذا، (فأجنبنا) (٣) فلم نجد الماء فتمعكنا في التراب، فلما قدمنا على النبي ﷺ ذكرنا ذلك له فقال: "إنما كان يكفيكما (هكذا) (٤) " -وضرب الأعمش بيديه ضربة ثم نفخهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه (٥).حضرت ابن ابزی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عمار سے کہا : کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب ہم فلاں فلاں مقام پر تھے اور ہم جُنبی ہوگئے تھے۔ ہم نے پانی نہیں پایا تو ہم مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگئے پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں کو یہی کافی تھا۔ (یہ کہہ کر) راوی اعمش نے اپنے دونوں ہاتھوں ایک مرتبہ (مٹی پر) مارا پھر ان دونوں کو پھونکا پھر ان کے ذریعہ سے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کو مسح فرمایا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : دو ضربیں ہیں۔ ایک ضرب کافی نہیں ہوتی۔