حدیث نمبر: 39043
٣٩٠٤٣ - حدثنا شبابة بن سوار عن مالك بن أنس عن نافع عن ابن عمر قال: أرادت عائشة أن تشتري بريرة فقالوا: أتبتاعينها على أن ولاءها لنا؟ فذكرت ذلك للنبي ﷺ، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا (يَمنعكِ) (١) ذلك منها، فإنما الولاء لمن أعتق" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو مالکوں نے کہا : کیا تم اس کو اس شرط پر خریدتی ہو کہ اس کا ولاء ہمارے لئے ہوگا ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ شرط تجھے بریرہ (کی خریداری) سے نہ روکے۔ کیونکہ وَلَاء تو اسی کو ملتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ شرط فاسد ہے اور جائز نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (يضرك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39043
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥٦٢)، وأحمد ٢/ ١١٣، وبنحوه مسلم (١٥٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39043، ترقيم محمد عوامة 37442)