مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة (كان يقول): لا يفعل ذلك وكرهه باب: مردوں کے لئے تسبیح کہنے کا بیان
٣٩٠٣٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: كان رجل من المسلمين أعمى، فكان يأوي إلى امرأة يهودية، فكانت تطعمه وتسقيه وتحسن إليه، وكانت لا تزال تؤذيه في رسول اللَّه ﷺ، فلما سمع (ذلك منها) (١) ليلة من الليالي قام فخنقها حتى قتلها، فرفع ذلك إلى النبي ﷺ فنشد الناس في أمرها، فقام الرجل فأخبره أنها كانت تؤذيه في النبي ﷺ وتسبه وتقع فيه فقتلها لذلك، فأبطل النبي ﷺ دمها (٢).حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک اندھا آدمی تھا اور وہ ایک یہودی عورت کے گھر میں رہائش پذیر تھا وہ عورت اس کو کھلاتی پلاتی تھی اور اس کے ساتھ اچھا رویہ رکھتی تھی۔ لیکن یہ عورت اس مسلمان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے بارے میں مسلسل اذیت دیتی تھی۔ پس جب اس نابینا مسلمان نے اس عورت کے منہ سے ایک رات کو یہ باتیں سُنیں۔ تو وہ کھڑا ہوا اور اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ یہ عورت مرگئی۔ یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اٹھایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے معاملہ میں لوگوں سے سوال کیا تو وہ نابینا مسلمان کھڑے ہوئے اور بتایا کہ یہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اذیت دیتی تھی اور آپ کو سب و شتم کرتی تھی۔ انہوں نے اس عورت کو اس لئے قتل کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے خون کو رائیگاں ٹھہرایا۔