مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: فيها بحساب ما زاد باب: زکوۃ میں نصاب سے فاضل مقدار کے حکم کا بیان
٣٩٠٢٢ - حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه قال: كنا في المغازي لا يؤمر علينا إلا أصحاب رسول اللَّه ﷺ، فكنا بفارس علينا رجل من مزينة من أصحاب النبي ﷺ (فغلت) (١) علينا المسان حتى كنا نشتري المسن بالجذعتين والثلاث، فقام فينا هذا الرجل فقال: إن هذا اليوم أدركنا فغلت علينا المسان حتى كنا نشتري المسن بالجذعتين والثلاث، فقام فينا النبي ﷺ فقال: "إن المسن يوفى مما يوفى منه الثني" (٢).حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جہاد میں ہوتے تھے اور ہم پر صحابہ کرام میں سے ہی کوئی امیر ہوتا تھا ۔ پس ہم فارس میں تھے اور ہم قبیلہ مزینہ سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امیر تھے۔ ہمارے پاس دو سالہ گائے کے بچے (قربانی کے لئے) مہنگے ہوگئے یہاں تک کہ ہم دو یا تین کے جذعہ (ایک سالہ یا ایک سالہ گائے) کے بدلہ میں ایک مُسِن (دو سالہ بچہ) خریدتے تھے ۔ تو یہ (صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہ دن ہم پر بھی آیا تھا کہ ہمیں دو سالہ بچے مہنگے مل رہے تھے یہاں تک کہ ہم (بھی) دو یا تین جذعہ دے کر مُسِن خریدتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ مُسِنّ جانور اس جگہ پورا ہے جہاں مثنی پورا ہے۔