حدیث نمبر: 38972
٣٨٩٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن حجاج بن أبي عثمان قال: حدثنا أبو رجاء مولى أبي قلابة عن أبي قلابة عن أنس أن نفرا من عكل ثمانية قدموا على النبي ﷺ فبايعوه على الإسلام فاستوخموا الأرض وسقمت أجسامهم، فشكوا ذلك إلى النبي ﷺ فقال: "ألا تخرجون مع راعينا في إبله فتصيبوا من أبوالها وألبانها"، قالوا: بلى، فخرجوا فشربوا من أبوالها وألبانها (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ عکل سے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی ۔ انہیں مدینہ کی زمین موافق نہ آئی اور ان کے جسم بیمار ہوگئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں نہیں چلے جاتے تاکہ تم اونٹوں کے پیشاب اور دودھ پیو ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! پس وہ لوگ چلے گئے اور انہوں نے اونٹوں کے دودھ اور پیشاب کو پیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : وہ اونٹوں کے پیشاب کو مکروہ جانتے تھے۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38972
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٩٣)، ومسلم (١٦٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38972، ترقيم محمد عوامة 37372)