مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة كان لا يرى الخرص باب: کھجوروں میں تخمینہ لگانے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 38970
٣٨٩٧٠ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: إن أبي (اجتاح) (١) مالي قال: "أنت ومالك لأبيك" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ میرا والد میرے مال کا محتاج ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : باپ اگر محتاج ہو تو اولاد کے مال میں سے لے سکتا ہے اور خود پر خرچ کرسکتا ہے وگرنہ نہیں۔
حواشی
(١) في [س]: (احتاج إلى).
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٦٩٠٢)، وأبو داود (٣٥٣٠)، وابن ماجه (٢٢٩٢)، والطحاوي ٤/ ١٥٨، وابن الجارود (٩٩٥)، والبيهقي ٧/ ٤٨٠، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٢٢، والخطيب في تاريخ بغداد ١٢/ ٤٩.