حدیث نمبر: 38954
٣٨٩٥٤ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد قال: نهى النبي ﷺ عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها، قالوا: وما بدو صلاحها؟ قالت: تذهب عاهاتها ويخلص طيبها (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدو صلاح سے پہلے پھلوں کی بیع کو منع فرمایا ہے۔ لوگوں نے پوچھا۔ پھلوں کی بُدوِّ صلاح کیا ہے ؟ انہوں نے ارشاد فرمایا : پھلوں کی آفات ختم ہوجائیں اور اس میں میوہ خلاصی پا جائے۔ (یعنی عادتاً آفات کا وقت گزر جائے اور حفاظت کا وقت شروع ہوجائے)

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38954
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عطية وابن أبي ليلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38954، ترقيم محمد عوامة 37354)