حدیث نمبر: 38949
٣٨٩٤٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن سويد بن غفلة قال: خرجت أنا وزيد بن صوحان وسلمان بن ربيعة حتى إذا كنا بالعذيب التقطت سوطا فقالا لي: ألقه، فابيت، فلما أتينا المدينة أتيت أبي بن كعب فسألته فقال: التقطت مائة دينار على (عهد) (١) النبي ﷺ فذكرت ذلك له فقال: "عرفها سنة"، فعرفتها سنة فلم أجد أحدا يعرفها، فأتيته فقال: "عرفها سنة" فإن وجدت صاحبها فادفعها إليه وإلا فاعرف عددها ووعاءها ووكاءها ثم تكون كسبيل مالك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سوید بن غفلہ بیان فرماتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نکلے یہاں تک کہ جب ہم عذیب مقام پر پہنچے تو میں نے ایک لاٹھی گری ہوئی اُٹھالی۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ اس لاٹھی کو پھینک دو ۔ میں نے انکار کیا۔ پس جب ہم مدینہ پہنچے تو میں ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سو دینار گرے ہوئے اٹھائے تھے اور یہ بات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان فرمائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک سال تک اس کی پہچان (لوگوں میں اعلان) کرواؤ۔ پس میں نے ان دیناروں کا ایک سال تک اعلان کروایا لیکن میں نے ان دیناروں کو پہچاننے والا کوئی نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی ایک سال تک پہچان کرواؤ۔ پھر اگر تم اس کے مالک کے پالو تو یہ اس کو دے دو وگرنہ تم اس کی تعداد، اس کا برتن اور اس کی رسی کی پہچان کرواؤ۔ پھر تم اس کے مالک کی طرح ہو جاؤ گے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اگر لقطہ کا مالک آجائے تو اس کا تاوان بھرا جائے گا۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38949
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٢٦)، ومسلم (١٧٢٣)، وأحمد (٢١١٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38949، ترقيم محمد عوامة 37349)