مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يتزوجها على أقل من عشرة دراهم باب: حق مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے
حدیث نمبر: 38927
٣٨٩٢٧ - حدثنا هشيم عن عبد العزيز بن (صهيب) (١) عن أنس بن مالك أن النبي ﷺ أعتق صفية وتزوجها، قال: فقيل له: ما (أصدقها؟) (٢) قال: "أصدقها نفسها"، جعل عتقها صداقها (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ کو آزاد کیا اور پھر ان سے شادی کرلی۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے ان کو کیا مہر دیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ انہیں ان کی جان مہر میں دی تھی، یعنی ان کی آزادی کو حق مہر بنا لیا گیا تھا۔
حواشی
(١) في [س]: (صهب).
(٢) في [أ، ب]: (صداقها).