حدیث نمبر: 38926
٣٨٩٢٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمير الخثعمي عن عبد الملك بن المغيرة الطائفي عن ابن (البيلماني) (١) قال: قال النبي ﷺ: "وآتوا النساء صدقاتهن نحلة"، قال: قالوا: يا (رسول) (٢) اللَّه (فما) (٣) العلائق بينهم؟ قال: "ما تراضى عليه أهلوهم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن البیلمانی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ { وَآتُوا النِّسَائَ صَدُقَاتِہِنَّ نِحْلَۃً } راوی کہتے ہیں : لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ان کے مابین بندھن (کا عوض) کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شئی پر ان کے گھر والے راضی ہوجائیں۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : آدمی ، عورت کے ساتھ دس درہم سے کم مقدار پر شادی نہیں کرسکتا۔

حواشی
(١) في [س]: (البليماني).
(٢) في [جـ]: (برسول).
(٣) في [س]: (في).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38926
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف، ابن البيلماني تابعي ضعيف، أخرجه سعيد بن منصور ١/ (٦١٩)، وأبو داود في المراسيل (٢١٥)، وابن جرير في التفسير ٢/ ٤٨٨، والبيهقي ٧/ ٢٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38926، ترقيم محمد عوامة 37326)