مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: يجوز البيع وإن لم يتفرقا باب: مجلس کے اختیار کا بیان
٣٨٩١٧ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران بن حصين أن النبي ﷺ صلى (١) ثلاث ركعات [ثم انصرف، فقام إليه رجل يقال له: (الخرباق) (٢)، فقال: يا رسول اللَّه أنقصت الصلاة؟ قال: "وما ذاك؟ "، قال: صليت ثلاث ركعات] (٣)، فصلى ركعة (ثم سلم) (٤) ثم سجد سجدتي السهو ثم سلم (٥).حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین رکعات پڑھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مُڑ گئے۔ تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑا ہوا جس کو خرباق کہا جاتا تھا۔ اس نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا نماز تھوڑی ہوگئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کیا ۔ آپ نے تین رکعات پڑھی ہیں پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت (اور) پڑھی پھر سلام پھیرا اور سجدہ سہو کیا پھر سلام پھیرا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب نمازی گفتگو کرلے تو پھر سجدہ سہو نہیں کرے گا (بلکہ تجدید نماز کرے گا) ۔