مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: يتزوجها إذا (كذب) نفسه باب: لعان کے بعد ملاعن کا نکاح کرنے کا بیان
٣٨٨٩٠ - حدثنا أبو خالد عن محمد بن عجلان عن زيد بن أسلم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال: النبي ﷺ: "إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، وإذا قرأ فأنصتوا، وإذا قال: ﴿عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾! فقولوا: آمين، وإذا ركع فاركعوا، وإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده، فقولوا: اللهم ربنا ولك الحمد، وإذا سجد فاسجدوا، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا" (١).حضرت ابوہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب امام قراءت کرے تو تم خاموش رہو، اور جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ ، وَلاَ الضَّالِّینَ } کہے تو تم آمین کہو۔ اور جب امام رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب امام سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم کہو۔ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَلَک الْحَمْدُ اور جب امام سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ۔ اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بیٹھ کر نماز پڑھو۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : امام بیٹھا ہو تو اس کی اقتدا (میں بیٹھنا) درست نہیں ہے۔