مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: يتزوجها إذا (كذب) نفسه باب: لعان کے بعد ملاعن کا نکاح کرنے کا بیان
٣٨٨٨٩ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: صرع رسول اللَّه ﷺ عن فرس له، فوقع على جذع فانفكت قدمه، قال: فدخلنا عليه نعوده وهو يصلي في مشربة لعائشة جالسًا، فصلينا بصلاته ونحن قيام، فأومأ إلينا أن اجلسوا، فلما صلى قال: "إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا صلى قائما فصلوا قياما، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا، ولا تقوموا وهو جالس كما تفعل أهل فارس بعظمائها" (١).حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھوڑے سے گرپڑے اور کھجور کے تنے پر گرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک سوج گئے۔ راوی کہتے ہیں : ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عیادت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مشربہ میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی درآنحالیکہ ہم کھڑے تھے پھر ہم دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پر ھنا شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو ارشاد فرمایا : امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، سو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب و ہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ امام بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ ہو جیسا کہ اہل فارس اپنے بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔