حدیث نمبر: 38886
٣٨٨٨٦ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عمر أن النبي ﷺ فرق بين المتلاعنين، فقال: يا رسول اللَّه مالي؟ فقال: "لا مال لك أن كنت صادقا فبما استحللت من فرجها، وإن كنت كاذبا فذاك أبعد لك منها" (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں میں جدائی کردی تو شوہر نے کہا : یا رسول اللہ ! میرا مال ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا مال نہیں ہے۔ (اس لئے کہ) اگر تو سچا ہے تو پھر تو نے ا س کی فرج کو کس کے عوض حلال سمجھ رکھا تھا ؟ (ظاہر ہے کہ مال ہی کے عوض حلت پیدا ہوئی تھی) اور اگر تو جھوٹا ہے تو پھر بطریقِ اولی تجھے مال نہیں ملے گا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب شوہر اپنی تکذیب کر دے تو عورت سے شادی کرسکتا ہے۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38886
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣١٢)، ومسلم (١٤٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38886، ترقيم محمد عوامة 37286)