مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: لا ينفى باب: زانی اور زانیہ کو جلاوطن کرنے کا بیان
٣٨٨٨١ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن (عيسى عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن) (١) (جده أبي ليلى) (٢) قال: كنا عند النبي ﷺ جلوسا، فجاء (الحسين) (٣) بن علي يحبو حتى (جلس) (٤) على صدره (فبال عليه) (٥)، قال: فابتدرناه لنأخذه، فقال النبي ﷺ: "ابني ابني"، ثم دعا بماء فصبه عليه (٦).حضرت ابو لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سرکتے ہوئے آئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اطہر پر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیشاب کردیا۔ راوی کہتے ہیں ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر حضرت حسین کو پکڑنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرا بیٹا ! میرا بیٹا ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اسے دھویا جائے گا۔