حدیث نمبر: 38875
٣٨٨٧٥ - حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن كريب (عن كريب) (١) عن ابن عباس عن سنان بن عبد اللَّه (الجهني) (٢) أنه حدثته عمته أنها أتت النبي ﷺ (فقالت: يا رسول اللَّه إن أمي توفيت وعليها مشي إلى الكعبة نذرا) (٣)، فقال النبي ﷺ: "أتستطيعين تمشين عنها؟ " قالت: نعم قال: "فامشي عن أمك"، قالت: أو يجزئ ذلك عنها؟ قال: "نعم" قال: "أرأيت لو كان عليها دين قضيته هل كان يقبل (منها؟) (٤) " قالت: نعم، فقال النبي ﷺ: " (فدين) (٥) اللَّه أحق" (٦)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سنان بن عبد اللہ جہنی بیان کرتے ہیں کہ انہیں ان کی پھوپھی نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میری والدہ اس حال میں وفات پا گئی ہیں کہ ان پر مکہ کی طرف پیدل آنے کی نذر لازم تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کی طرف سے مکہ کی طرف پیدل آسکتی ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم ان کی طرف سے چل کر مکہ آؤ۔ سائلہ نے پوچھا : کیا یہ ان کی طرف سے کفایت کر جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! اور فرمایا : تم بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اس کو ادا کرتی تو کیا یہ تمہاری والدہ کی طرف سے قبول کرلیا جاتا ؟ انہوں نے عرض کیا۔ جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ زیادہ حق دار ہے ۔ (کہ اس کا حق ادا کیا جائے) ۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ چیز میت کو کفایت نہیں کرے گی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [هـ]: (الجهمي).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س]، وقد سبق الخبر بإثباتها برقم [١٣٠١٨].
(٤) في [أ، ب، جـ، س]: (عنها)، وفي [هـ]: (منك).
(٥) سقط من: [أ، ب، س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38875
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف محمد بن كريب، أخرجه البخاري في التاريخ ٤/ ١٦١، وأبو يعلى كما في المطالب (١٧٨٦)، وابن عدي ١٣/ ٢٧٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٩٥)، وبنحوه أخرجه أحمد ١/ ٢٧٩ (٢٥١٨)، وابن خزيمة (٣٠٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38875، ترقيم محمد عوامة 37275)