مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة كان يقول: (جائز) إذا كان كفوءا باب: بغیر ولی کے نکاح کرنے کا بیان
٣٨٨٧٥ - حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن كريب (عن كريب) (١) عن ابن عباس عن سنان بن عبد اللَّه (الجهني) (٢) أنه حدثته عمته أنها أتت النبي ﷺ (فقالت: يا رسول اللَّه إن أمي توفيت وعليها مشي إلى الكعبة نذرا) (٣)، فقال النبي ﷺ: "أتستطيعين تمشين عنها؟ " قالت: نعم قال: "فامشي عن أمك"، قالت: أو يجزئ ذلك عنها؟ قال: "نعم" قال: "أرأيت لو كان عليها دين قضيته هل كان يقبل (منها؟) (٤) " قالت: نعم، فقال النبي ﷺ: " (فدين) (٥) اللَّه أحق" (٦)حضرت سنان بن عبد اللہ جہنی بیان کرتے ہیں کہ انہیں ان کی پھوپھی نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میری والدہ اس حال میں وفات پا گئی ہیں کہ ان پر مکہ کی طرف پیدل آنے کی نذر لازم تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کی طرف سے مکہ کی طرف پیدل آسکتی ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم ان کی طرف سے چل کر مکہ آؤ۔ سائلہ نے پوچھا : کیا یہ ان کی طرف سے کفایت کر جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! اور فرمایا : تم بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اس کو ادا کرتی تو کیا یہ تمہاری والدہ کی طرف سے قبول کرلیا جاتا ؟ انہوں نے عرض کیا۔ جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ زیادہ حق دار ہے ۔ (کہ اس کا حق ادا کیا جائے) ۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ چیز میت کو کفایت نہیں کرے گی۔