مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة كان يقول: (جائز) إذا كان كفوءا باب: بغیر ولی کے نکاح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 38874
٣٨٨٧٤ - حدثنا ابن نمير عن عبد اللَّه ابن عطاء عن ابن بريدة عن أبيه قال: كنت جالسا عند النبي ﷺ إذ جاءته امرأة فقالت: إنه كان على أمي صوم شهرين (أفأصوم) (١) عنها؟ قال: "صومي عنها، (أرأيت لو كان) (٢) على أمك دين (قضيته) (٣)، أكان يجزئ عنها؟ " قالت: بلى قال: "فصومي (عنها) (٤) " (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے کہا۔ میری والدہ پر دو ماہ کے روزے (لازم) تھے۔ کیا میں ان کی طرف سے یہ روزے رکھ سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔ تو بتاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اس کو ادا کرتی تو کیا یہ کافی ہوجاتا ؟ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس پھر تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔
حواشی
(١) في [جـ، س]: (فأصوم).
(٢) في [هـ]: (قال)، وفي [س]: (لو كان).
(٣) في [س]: (فقضيته).
(٤) سقط من: [أ، ب].