مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يفعل فإن فعل فعليه دم باب: جو محرم بوجہ عذر کے پائجامہ پہنے اور اس پر دَمْ کے وجوب کا بیان
٣٨٨٦٤ - حدثنا يزيد عن محمد بن إسحاق عن حفص بن عبيد اللَّه بن أنس قال: كنا نسافر مع أنس إلى مكة، فكان إذا زالت الشمس وهو في منزل لم يركب حتى يصلي الظهر، فإذا راح فحضرت (العصو) (١) صلى العصر، فإن سار من منزله قبل أن تزول (الشمس) (٢) فحضرت الصلاة قلنا: الصلاة، فيقول: سيروا، حتى إذا كان بين الصلاتين نزل فجمع بين الظهر والعصر، ثم قال: رأيت النبي ﷺ إذا وصل ضحوتَه بروحته صنع هكذا (٣).حضرت حفص بن عبیداللہ بن انس سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس کے ساتھ مکہ کی طرف سفر کرتے، پس جب سورج زائل ہوجاتا اور حضرت انس کسی منزل میں ٹھہرے ہوتے تو آپ ظہر کی نماز ادا کرنے سے پہلے سوار نہ ہوتے، اور جب آپ شام کو سوار ہوتے اور عصر کا وقت موجود ہوتا تو آپ عصر پڑھ لیتے، لیکن اگر آپ اپنی منزل سے زوال شمس سے پہلے روانہ ہوچکے ہوتے اور نماز کا وقت آجاتا اور ہم کہتے، نماز ؟ تو آپ فرماتے : چلتے رہو، یہاں تک کہ جب دو نمازوں کا درمیان ہوجاتا تو آپ سواری سے اترتے اور ظہر ، عصر کو جمع فرماتے اور پھر فرماتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صبح سے شام تک مسلسل سفر کرتے تو یونہی کرتے۔